65a854e0fbfe1600199c5c82

دو ٹانگوں والے درندے



 سنو سنو!!


دو ٹانگوں والے درندے


(ناصرالدین مظاہری)


20 اگست 1995ء، اترپردیش کا صنعتی شہر فیروزآباد چوڑیوں کی کھنک کے لیے مشہور اس شہر کے قریب رات کے تقریباً تین بجے ایک ایسا حادثہ پیش آیا تھا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔


کالندی ایکسپریس پٹری پر ایک نیل گائے سے ٹکرانے کے بعد رک گئی تھی۔ پیچھے سے آنے والی تیز رفتار ٹرین پرشوتم ایکسپریس اس سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ کئی ڈبے تباہ ہوگئے اور سیکڑوں مسافر موت کی نیند سوگئے۔


 رات کے آخری پہر ہونے والے اس حادثہ میں جو سو رہا تھا سویا رہ گیا، بہت تکلیف دہ مناظر تھے۔یہ حادثہ کیا تھا، قیامت کا ایک منظر تھا۔ لاشیں ہی لاشیں، چیخ و پکار، زخمیوں کی کراہیں، اپنوں کو تلاش کرتی ہوئی آنکھیں، ہر طرف افراتفری اور نفسی نفسی کا عالم۔

میں اس وقت تقریباً اٹھارہ انیس برس کا تھا اور مظاہر علوم میں دورۂ حدیث کا طالب علم تھا۔ عمر کم تھی، مگر شعور اتنا ضرور تھا کہ بعض مناظر دل پر ایسے نقش ہوگئے جنہیں مروت ایام کے باوجود بھلایا نہیں جاسکا۔


اسی حادثے کے بعد اخبارات میں بعض ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے جنہیں پڑھ کر انسانیت کے وجود پر سوال اٹھتا تھا۔ میری یاد میں وہ خبریں آج تک محفوظ ہیں کہ کچھ اہلکار حادثے میں مرنے والی عورتوں کے کانوں، ناکوں اور گلے سے زیورات اتار رہے تھے اور بعض لوگ مردوں اور عورتوں کے سامان کی تلاشی لے کر قیمتی چیزیں نکال رہے تھے۔


اکتیس برس گزر گئے، مگر وہ خبر آج بھی دل میں کانٹے کی طرح چبھتی ہے ۔


میں تو سوچ رہا تھا کہ اب وقت بدل چکا ہے، تعلیم بڑھ چکی ہے ۔ لوگ زیادہ باشعور ہوچکے ہیں ۔ اسکول، کالج، یونیورسٹیاں پہلے سے کہیں زیادہ قائم ہوچکی ہیں۔ اخلاقیات کے اسباق پڑھائے جارہے ہیں ۔ مذہبی ادارے، مدارس اور مکاتب اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں۔ اس لئے اب تو انسان، انسان کے زیادہ قریب ہوچکا ہوگا۔ مگر شاید میں غلط سوچ رہا تھا!


26 اگست 2026ء کو نیپال میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب نے ایک بار پھر انسانیت کے چہرے پر ایسا سوال لکھ دیا ہے جس کا جواب ہمارے پاس نہیں۔ برف اور چٹان کے تودے کے باعث آنے والے اس سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، سیکڑوں لوگ ہلاک یا لاپتہ ہوئے اور بستیاں، سڑکیں اور پل تاش کے پتوں کے مانند بہہ گئے۔


اور پھر سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کرتی نظر آئی۔ کچھ لوگ ایک مردہ عورت کی لاش کو کیچڑ اور پانی سے بال پکڑ کر نکال رہے ہیں، مگر مقصد اسے محفوظ کرنا یا دفن کرنا نہیں، بلکہ اس کے گلے، کان اور ناک کے زیورات اتارنا تھا۔


اگر یہ منظر واقعی وہی ہے جو دکھائی دے رہا ہے تو پھر سوال صرف یہ نہیں کہ زیورات کس نے اتارے؟


اصل سوال یہ ہے:

"انسان" کہاں چلا گیا؟

یہ لوگ قدرت کی ہولناک تباہی سے بچ گیے۔ انھیں تو چاہیے تھا کہ زمین پر گر کر اللہ کا شکر ادا کرتے، اپنے بچ جانے کو نئی زندگی کی ابتدا سمجھتے، زخمیوں کو اٹھاتے، لاشوں کو محفوظ کرتے، بچوں کو بچاتے ، عورتوں اور بوڑھوں کا سہارا بنتے ، کسی مصیبت زدہ انسان کے لیے سایہ بنتے۔


مگر ان لوگوں کو انسان نہیں صرف زیور نظر آیا! یہ صرف چوری نہیں۔

 صرف لالچ نہیں۔ یہ انسانیت کی لاش پر ہاتھ ڈالنا ہے۔ اور شاید اس سے بھی زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ ایسے واقعات ہمارے لیے اب حیرت کا باعث بھی نہیں رہے۔ ہم ویڈیو دیکھتے ہیں، چند لمحے افسوس کرتے ہیں، دو چار جملے لکھتے ہیں، پھر اگلی ویڈیو کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔

کیا ہماری حس بھی سیلاب میں بہہ گئی ہے؟ کیا ہمارے اندر کا انسان بھی ملبے تلے دب چکا ہے؟


اکتیس برس پہلے فیروزآباد میں حادثے کے بعد انسانیت کے زوال کی جو تصویر میری آنکھوں میں محفوظ ہوئی تھی، آج نیپال کے سیلاب نے اسی تصویر کو پھر تازہ کردیا۔


فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت خبر اخبار میں پڑھ کر دل دکھا تھا، آج موبائل کی اسکرین پر منظر دیکھ کر روح کانپ گئی۔


تعلیم کہاں گئی؟ اسکولوں میں کیا پڑھایا؟ کالجوں نے کیا سکھایا؟ یونیورسٹیوں نے انسان کو کیا دیا؟

مدارس اور مکاتب نے اپنا کیا اثر دکھایا؟


کتابیں بڑھتی گئیں، نصاب بدلتا گیا، ڈگریاں بڑھتی گئیں، عمارتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ، معلومات کے ذخیرے بڑھتے گئے؛ مگر اگر مصیبت میں پڑے ہوئے انسان کے پاس پہنچ کر ہمارا دل نہیں پگھلا، اگر مردہ انسان کے احترام کا احساس بھی باقی نہیں رہا، اگر کسی کی مجبوری اور بے کسی و بے بسی میں ہمیں اپنی کمائی دکھائی دینے لگی تو پھر ہمیں اپنے تعلیمی نظام سے ایک بنیادی سوال ضرور کرنا چاہیے:


ہم انسان بنا رہے ہیں یا صرف تعلیم یافتہ درندے؟

نام رحیم رکھ لینے سے کوئی رحیم نہیں ہوجاتا۔ نام اوتار رکھ لینے سے کوئی اوتار نہیں بن جاتا۔ مذہب کا نام، مدرسے کا نام، یونیورسٹی کی ڈگری، عہدہ، لباس، زبان، تہذیب یہ سب اپنی جگہ؛ اصل امتحان تو اس وقت ہوتا ہے جب سامنے کوئی بے بس انسان پڑا ہو اور ہمیں اس سے کچھ حاصل بھی ہوسکتا ہو۔


وہاں ہمارا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔

کتابیں اگر کردار نہ بنائیں تو الماریوں کا بوجھ ہیں۔ پشتکیں اگر دل میں رحم پیدا نہ کریں تو کاغذ کا انبار ہیں۔ تعلیم اگر انسان کو انسان کا درد نہ سکھائے تو وہ صرف معلومات ہیں، جنرل نالج ہے ۔تربیت نہیں۔


درندگی ہمیشہ جنگل میں نہیں ملتی۔ کبھی کبھی وہ دو ٹانگوں پر بھی چلتی ہے، صاف کپڑے پہنتی ہے، اچھی زبان بولتی ہے، بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، تہذیب کا لبادہ اوڑھتی ہے اور موقع ملتے ہی کسی کی بے بسی نوچ کھاتی ہے۔


سچ کہوں تو ہم سب کو اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔

ہم سب انسان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر انسانیت کا امتحان ابھی باقی ہے۔

کسی کے مرنے پر ہمارا رویہ کیا ہے؟

کسی کے مصیبت میں مبتلا ہونے پر ہم کیا کرتے ہیں؟

کسی کی مجبوری ہمارے لیے خدمت کا موقع بنتی ہے یا فائدے کا؟

کسی کے پاس کچھ نہ ہو تو کیا ہم اس کی عزت بچاتے ہیں یا اس کی مجبوری خرید لیتے ہیں؟

یہ سوالات طے کریں گے کہ ہم واقعی انسان ہیں یا صرف دو ٹانگوں والے جاندار!

خدا کسی بھی ملک کو نیک لوگ دے، نیک افسر دے، نیک عہدے دار دے، غم خوار عوام دے، ہمدرد خواص دے، ایسے لوگ دے جو مصیبت میں انسان کو انسان سمجھیں۔

اور ہمیں بھی توفیق دے کہ کسی حادثے، سیلاب، زلزلے یا موت کے منظر کو تماشا نہ سمجھیں۔

لاش، لاش ہوتی ہے؛ خواہ وہ کسی مذہب، ملک، قوم یا خاندان سے تعلق رکھتی ہو۔

اس کا احترام انسانیت کا تقاضا ہے۔

خدارا!

قیامت کو قیامت سے پہلے دعوت مت دیجیے۔

اپنے دلوں میں اتنی درندگی مت پیدا کیجیے کہ قیامت کا آنا ہمیں ضروری محسوس ہونے لگے۔

حالات اگر اسی طرح انسانیت سے خالی ہوتے گئے تو شاید ایک دن قیامت خود ہمیں سمجھائے گی کہ آسمان و زمین کا لپیٹ دیا جانا کیوں ضروری تھا، اور انسانوں کی اس بستی کو ختم ہوجانا کیوں ناگزیر تھا۔

کیونکہ قیامت سے زیادہ خوفناک چیز شاید یہ ہے کہ انسان دنیا میں موجود ہو، مگر انسانیت دنیا سے رخصت ہوچکی ہو!


(تیرہ ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے