سنو سنو!!
نقل کفر کفر نباشد، مگر نقلِ منفی؟
(ناصرالدین مظاہری)
بعض لوگ دل میں بہت کچھ پکاتے رہتے ہیں، ذہن میں بہت سے خیالات کا لاوا ابلتا رہتا ہے، کسی سے شکایت ، کسی سے ناراضی ، کسی کے طرزِ عمل سے اختلاف ، کسی شخصیت سے چڑ ؛ مگر براہِ راست کہنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ پھر ایک دن انہیں ایک فارسی مقولہ مل جاتا ہے:
"نقل کفر کفر نباشد!"
بس پھر کیا تھا! جو بات اپنے نام سے کہتے ہوئے زبان لڑکھڑا رہی تھی، وہ کسی دوسرے کے نام سے بڑے اطمینان کے ساتھ کہہ دی جاتی ہے اور تاویل یہ کی جاتی ہے کہ
"ہم تو نہیں کہتے، فلاں صاحب نے کہا ہے۔"
"ہماری کیا مجال، یہ تو فلاں بزرگ کا قول ہے۔"
"بھائی! ہم نے کب کہا؟ ہم تو صرف نقل کر رہے ہیں!"
بہت خوب ! بات بھی کہہ دی، تیر بھی چلا دیا اور کمان بھی دوسرے کے ہاتھ میں تھما دی!
حقیقت یہ ہے کہ نقل کرنا بھی ایک طرح کا انتخاب ہے۔ انسان ہزاروں اقوال سنتا اور پڑھتا ہے، مگر ہر قول نقل نہیں کرتا۔ جس بات کو وہ اپنے مزاج، اپنی پسند، اپنے موقف یا اپنے جذبات سے قریب پاتا ہے، اسے اٹھا کر دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ اس لیے محض یہ کہہ دینا کہ "یہ میری بات نہیں، میں تو صرف نقل کر رہا ہوں" انسان کو ہر اخلاقی ذمہ داری سے بری نہیں کر دیتا۔
خاص طور پر ایسی باتیں جو کسی فرد، جماعت یا طبقے کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرتی ہوں، ان کے نقل کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ اس نقل کا مقصد کیا ہے؟
کیا کوئی علمی ضرورت ہے؟
کیا کسی غلط بات کی تردید مقصود ہے؟
کیا کسی تاریخی واقعے کو سمجھنا ہے؟
کیا کسی نظریے کا تنقیدی جائزہ لینا ہے؟
یا صرف دل کی بھڑاس نکالنی ہے؟
اگر مقصد آخری والا ہے تو پھر کسی دوسرے کے قول کا حوالہ لگا دینے سے معاملہ پاک صاف نہیں ہوجاتا۔
یہ بھی ایک عجیب نفسیات ہے کہ انسان اپنی منفی بات کو کسی بڑے آدمی کے نام سے منسوب کرکے مطمئن ہوجاتا ہے۔ گویا بات اگر اپنی ہو تو بدگمانی، اور اگر کسی دوسرے کی کتاب سے اٹھائی ہوئی ہو تو تحقیق!
اہلِ خرد یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ:
"ہر منقول بات قابلِ نقل نہیں ہوتی۔"
کسی شخص کے عیوب، کسی کی تحقیر، کسی کی تضحیک، کسی کے خلاف طنز یا کسی کے بارے میں منفی تاثر پھیلانے والی بات اگر ہمارے پاس پہنچ بھی گئی ہے تو ضروری نہیں کہ ہم بھی اسے آگے پہنچا دیں۔
سوشل میڈیا نے اس بیماری کو اور آسان کردیا ہے۔ لوگ کسی پوسٹ کے ساتھ چند بڑے نام دیکھتے ہیں، متاثر ہوجاتے ہیں، اسکرین شاٹ لیتے ہیں اور آگے بڑھا دیتے ہیں۔ کبھی یہ تحقیق بھی نہیں کرتے کہ واقعی یہ قول اسی شخص کا ہے یا نہیں، سیاق و سباق کیا تھا، کس موقع پر کہا گیا تھا اور اس کا اصل مفہوم کیا تھا۔
اور پھر اگر کوئی اعتراض کرے تو فوراً جواب عنایت ہوتا ہے:
"میں نے تو صرف نقل کیا ہے!"
عرض ہے، نقل کرنے والے سے یہ سوال بھی تو ہوگا کہ آپ نے یہی بات نقل کرنے کے لیے کیوں منتخب کی؟ آپ نے کسی کے کندھے پر بندوق رکھ کر گولی چلانے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟
دنیا میں مثبت باتیں بھی کم نہیں۔ تعریف کے جملے بھی ہیں، اصلاح کی باتیں بھی ہیں، خیر خواہی کے کلمات بھی ہیں، علم و حکمت کے موتی بھی ہیں۔ لیکن ہماری نظر اکثر اسی جملے پر کیوں ٹھہرتی ہے جس میں کسی کی کمزوری، کسی کی خامی یا کسی کے خلاف طنز موجود ہو؟
اس لیے کہ شاید وہ جملہ ہماری اپنی اندرونی حالت اور کیفیت کا ترجمان ہوتا ہے۔
ہمیں اپنے الفاظ نہیں مل رہے ہوتے، کوئی دوسرا ہمارے دل کی بات کہہ دیتا ہے، ہم اسے تلاش کرتے ہیں، حوالہ لگاتے ہیں اور اپنے قارئین کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔
یوں "نقل" محض نقل نہیں رہتی، ہمارے خیالات کی ترجمانی بن جاتی ہے۔
"نقل کفر کفر نباشد" ایک مخصوص شرعی و علمی سیاق کا اصول ہے؛ اسے ہر طرح کی بدزبانی، تحقیر، غیبت، طعن و تشنیع یا منفی گفتگو کے لیے عام اجازت نامہ سمجھ لینا درست نہیں۔
علمی دنیا میں کسی غلط نظریے کو اس کی اصل عبارت کے ساتھ نقل کرنا اور پھر اس کی تردید کرنا ایک الگ چیز ہے؛ اور کسی کی منفی بات کو محض اس لیے پھیلاتے رہنا کہ "یہ تو فلاں نے کہا ہے" بالکل دوسری چیز ہے۔
پہلی صورت میں مقصد بیان و تردید ہے، دوسری میں بسا اوقات مقصد صرف تشہیر و اشاعت رہ جاتا ہے۔
لہٰذا کبھی کبھی خاموش رہ جانا بھی علم ہے، کبھی کسی قول کو آگے نہ بڑھانا بھی اخلاق ہے، اور کبھی یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ
"یہ بات اگرچہ میرے پاس کسی کے حوالے سے پہنچی ہے، لیکن میں اسے آگے پہنچانا مناسب نہیں سمجھتا۔"
کیونکہ نہ تو ہر سچی بات کہنا اور بتانا ضروری ہوتا ہے، نہ ہر منقول بات نقل کرنا ضروری ہے، اور نہ ہر دستیاب مواد نشر کرنے کے لیے ہوتا ہے، اسی طرح کسی بھی بزرگ کا ہر قول اور مقولہ بھی عوام میں پھیلانے کے لائق نہیں ہوتا ، خواص کی مجلس کے مناسب حال اقوال وارشادات الگ ہوتے ہیں عوام کے معیار کے اقوال و ملفوظات الگ ہوتے ہیں۔أَنْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ۔(ابوداؤد)اور كَلِّمِ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ عُقُولِهِمْ کا ایک مفہوم یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ لوگوں کے مناسب حال گفتگو کرو یعنی ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اپنے الفاظ دوسرے کے منہ سے کہہ دینے سے ہر بات ہماری ذمہ داری سے خارج نہیں ہوجاتی۔
حوالہ صرف یہ بتاتا ہے کہ بات کس کی ہے؛ یہ ثابت نہیں کرتا کہ اسے آگے پہنچانا بھی ہماری ذمہ داری سے خارج ہوگیا۔
بلکہ حوالہ دینے سے پہلے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم کس بات کو کس مقصد کے لیے حوالہ بنا رہے ہیں۔
یہاں ایک عجیب بات بتاکر رخصت ہوتا ہوں۔
آپ اسلام دشمنوں کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ اسلامی تعلیمات پر اعتراض کے مواقع تلاش کرتے رہتے ہیں۔ اب ایسی صورت میں اگر آپ بھی تاریخِ اسلام سے چن چن کر وہ مواد انہیں فراہم کرنے لگیں جس میں ان کے لیے مرچ مصالحہ لگانے، اعتراض تراشنے اور اسلام کو بدنام کرنے کا موقع موجود ہو تو ذرا سوچیے: آپ کس کی خدمت کر رہے ہیں؟
یہ ضروری نہیں کہ ہر تاریخی واقعہ چھپایا جائے، نہ یہ درست ہے کہ علمی تحقیق کے نام پر حقائق کو مسخ کیا جائے؛ لیکن یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ کیا ہر بات ہر شخص کے سامنے، ہر وقت اور ہر مقصد کے لیے پیش کرنا حکمت ہے؟
جس مواد کو سامنے رکھنے کا نتیجہ یہ ہو کہ ایک شخص حقائق سمجھنے کے بجائے انہیں دین کے خلاف پروپیگنڈے کا ایندھن بنا لے، اسے دانستہ طور پر اسی مقصد کے لیے فراہم کرنا خیر خواہی نہیں۔ بعض صورتوں میں ایسا طرزِ عمل اعانت علی الإثم کے دائرے میں بھی داخل ہوسکتا ہے۔
دین کی خدمت صرف یہ نہیں کہ جو کچھ ہمیں معلوم ہے، سب کچھ ہر جگہ بیان کردیا جائے؛ دین کی خدمت یہ بھی ہے کہ علم کو حکمت کے ساتھ پیش کیا جائے، اور یہ پہچانا جائے کہ کیا کہنا ہے، کتنا کہنا ہے، کس سے کہنا ہے اور کس موقع پر کہنا ہے۔
اگر دل میں کوئی منفی بات بہت دنوں سے پک رہی ہے تو اسے کسی دوسرے کے قول کی دیگچی میں ڈال کر پیش کرنے کے بجائے ذرا اپنے دل سے بھی پوچھ لیجیے کہ
"کیا میں واقعی اس قول کو نقل کر رہا ہوں، یا اپنے دل کی بات کسی دوسرے کے قلم سے کہلوا رہا ہوں؟"
فرق بہت معمولی ہے، مگر کردار اسی معمولی فرق سے بنتا اور بگڑتا ہے۔
(سولہ ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے