سنو سنو!!
زبان سلامت تو ایمان و نکاح سلامت
(ناصرالدین مظاہری)
انسان کے جسم میں زبان گوشت کا ایک معمولی سا ٹکڑا ہے، مگر اس کے اثرات معمولی نہیں۔ یہی زبان ذکر کرتی ہے تو اجر ملتا ہے، قرآن پڑھتی ہے تو دلوں کو نور ملتا ہے، کسی غم زدہ انسان کو تسلی دیتی ہے تو اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے، کسی کے ساتھ محبت کا اظہار کرتی ہے تو رشتے مضبوط ہوتے ہیں؛ لیکن یہی زبان بے لگام ہوجائے تو دل توڑ دیتی ہے، رشتے بگاڑ دیتی ہے، فساد پھیلا دیتی ہے اور کبھی ایسے الفاظ بھی نکال دیتی ہے جن کا انجام ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔
اسی لیے شریعت نے زبان کے بارے میں غیر معمولی احتیاط کی تعلیم دی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ
"جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔"
یہ صرف معاشرتی ادب نہیں، ایمان کا تقاضا ہے۔
اور ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت سے پہلے آنے والے فتنوں کی شدت سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا:
بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا.
(صحیح مسلم، کتاب الإیمان، حدیث 118)
"نیک اعمال میں جلدی کرو، ان فتنوں سے پہلے جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے۔ آدمی صبح کے وقت مؤمن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائے گا، یا شام کو مؤمن ہوگا اور صبح کو کافر اٹھے گا، وہ دنیا کے معمولی فائدے کے بدلے اپنا دین فروخت کردے گا۔"
جس ایمان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی سخت تنبیہ فرمائی، ہم اس ایمان کی حفاظت کے لیے کتنے محتاط ہیں؟
آج ہمارے ہاں گفتگو میں بے احتیاطی عام ہے۔ مذاق میں کچھ بھی کہہ دینا، غصے میں زبان کو آزاد چھوڑ دینا، دین کے کسی حکم پر طنز کردینا، کسی شرعی مسئلے کو ہنسی کا موضوع بنادینا، سوشل میڈیا پر کوئی جملہ دیکھ کر بغیر سوچے آگے بڑھادینا یہ سب معمولی سمجھ لیا گیا ہے۔
اور جب کوئی متوجہ کرے تو فوراً جواب ملتا ہے:
"بھائی! میں تو مذاق کررہا تھا!"
لیکن کیا مذاق، غصہ، جذبات یا مجلس کی بے تکلفی شریعت کی حدود کو ختم کردیتی ہے؟ ہرگز نہیں۔
فقہاء نے کلماتِ کفر کو غیر معمولی طور پر اہمیت دی ہے۔
کتاب مالا بد منه فقہ حنفی کی بڑی معتبر کتاب ہے ، دارالافتاء کے مفتیان اس کتاب کا حوالہ دیتے ہیں ، یہ درس نظامی کی اولین فقہی کتاب بھی ہے اس کتاب میں کلماتِ کفر کے مسئلے کو مستقل اہمیت دی گئی ہے۔ وہاں جاہل شخص کے بارے میں یہ بحث نقل کی گئی ہے کہ اگر وہ لاعلمی میں کلمۂ کفر کہہ دے تو کیا جہالت اس کے لیے عذر بن سکتی ہے یا نہیں۔
عبارت یہ ہے:
اگر جاہلے کلمہ کفر گفت، نمی داند کہ این کلمہ کفر است، بعضے علما گفتہ اند کہ کافر نہ شود و جهل عذر است، و بعضے گفتہ اند کہ کافر شود و جهل عذر نیست۔
"اگر کوئی جاہل شخص کلمۂ کفر کہہ دے اور اسے معلوم نہ ہو کہ یہ کلمۂ کفر ہے تو بعض علماء نے فرمایا کہ وہ کافر نہیں ہوگا اور جہالت عذر ہے، جبکہ بعض علماء نے فرمایا کہ وہ کافر ہوجائے گا اور جہالت عذر نہیں ہے۔"
فقہاء کے درمیان جہالت کے عذر ہونے یا نہ ہونے پر بحث ہورہی ہے؛ یعنی مسئلہ اتنا نازک ہے کہ آدمی صرف یہ کہہ کر مطمئن نہیں ہوسکتا کہ "مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا۔"
اس لیے مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ کم از کم ان باتوں کا علم حاصل کرے جن سے اس کے ایمان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
شامی کی حیرت انگیز عبارت:
اسی سلسلے میں علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے رد المحتار کے مقدمے میں علم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھا کہ حرام اور کفریہ الفاظ کا علم حاصل کرنا نہایت اہم ہے، کیونکہ بہت سے عوام ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں جو کفر تک پہنچا دیتی ہیں اور وہ اس سے غافل ہوتے ہیں۔
پھر فرماتے ہیں:
والاحتياط أن يجدد الجاهل إيمانه كل يوم، ويجدد نكاح امرأته عند شاهدين في كل شهر مرة أو مرتين، إذ الخطأ وإن لم يصدر من الرجل فهو من النساء كثير.
(رد المحتار، ج 1، ص 42)
"اور احتیاط یہ ہے کہ جاہل شخص ہر روز اپنے ایمان کی تجدید کرے، اور اپنی بیوی کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں ہر ماہ ایک یا دو مرتبہ نکاح کی تجدید کرے؛ کیونکہ اگرچہ غلطی مرد سے صادر نہ ہوئی ہو، لیکن عورتوں سے اس طرح کی غلطی کا صدور بہت زیادہ ہوتا ہے۔"
یہاں دو لفظ خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں:
فقہاء کا اصل مقصد یہی ہے کہ مسلمان اپنے ایمان اور نکاح کے معاملے میں بے فکری قطعی نہ برتے۔
ایک واقعہ سنتے چلیں:
ہمارے استاذ محترم، فقیہ الاسلام حضرت مولانا مفتی مظفر حسین رحمہ اللہ کسی سفر میں تھے۔ دورانِ سفر ڈرائیور سے گفتگو ہورہی تھی کہ اس نے کوئی ایسی بات کہہ دی جو خلافِ شرع تھی۔
حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ نے فوراً فرمایا:
"یہ بات تو کفریہ ہے، اب تم پر توبہ و استغفار کے بعد دوبارہ اسلام میں داخل ہونا ضروری ہوگیا ہے۔"
ڈرائیور نے حضرت کے ارشاد کی فوری تعمیل کی، توبہ و استغفار کیا اور تجدید ایمان کی۔
لیکن حضرت نے اتنا ہی کافی نہیں سمجھا، فرمایا:
"اب گھر چلو، تمہارا نکاح بھی پڑھانا ضروری ہے۔"
چنانچہ گھر پہنچ کر تجدید نکاح بھی ہوئی۔
یہ واقعہ اپنے اندر ایک پوری درسگاہ رکھتا ہے۔
ڈرائیور نے شاید ایک جملہ معمولی سمجھ کر کہہ دیا تھا، لیکن ایک صاحب علم فقیہ نے اس جملے کے شرعی انجام کو معمولی نہیں سمجھا۔
یہی فقہ کی بصیرت ہے۔
یہی اہل علم کی ذمہ داری ہے۔
اور یہی ہمارے لیے سبق ہے کہ جو چیز ہمیں معمولی دکھائی دے رہی ہو، ضروری نہیں کہ شریعت میں بھی وہ معمولی ہو۔
آج زبان صرف زبان نہیں رہی
پہلے انسان کی بات اس کی مجلس تک محدود رہتی تھی۔ آج موبائل نے زبان کو عالمی بنادیا ہے۔
اب صرف منہ نہیں بولتا، انگلیاں بھی بولتی ہیں۔
فیس بک کا کمنٹ بھی کلام ہے۔
واٹس ایپ کا پیغام بھی گفتگو ہے۔
سوشل میڈیا کی پوسٹ بھی گفتگو ہے۔
کسی بات کو شیئر کرنا بھی اسے دوسروں تک پہنچانا ہے۔
آج ایک شخص گھر میں بیٹھ کر ایسا جملہ لکھ دیتا ہے جسے چند منٹ میں ہزاروں لوگ پڑھ لیتے ہیں اور ممکن ہے وہی کفریہ جملہ جانے انجانے میں کوئی اور بول بیٹھے اور گنہ گار ہوجائے۔
اس لیے آج زبان کی حفاظت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
کلمات کے احکام میں الفاظ کے معنی، قائل کا قصد، اس کا علم، اس کی جہالت، قرائن اور دیگر فقہی امور کا اعتبار ہوتا ہے۔
اس لیے اگر کسی مسلمان کی زبان سے کوئی ایسا جملہ نکل جائے جس کے بارے میں شبہ ہو کہ وہ کفر تک پہنچتا ہے تو نہ اسے ہنسی میں اڑانا چاہیے اور نہ خود بیٹھ کر فتویٰ لگانا چاہیے بلکہ فوراً کسی مستند مفتی سے رجوع کرنا چاہیے۔
اصل سبق یہ ہے کہ مذاق، غصہ، سوشل میڈیا، دوستوں کی مجلس اور وقتی جذبات کے ہاتھوں اپنے ایمان کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔
تجدید نکاح احتیاط کا ایک راستہ ہوسکتا ہے، مگر اس سے بہتر راستہ یہ ہے کہ آدمی ایسی بات کہے ہی نہ جس کے بعد تجدید ایمان کی ضرورت پیش آئے۔
دین کے بارے میں بغیر علم کے گفتگو نہ کریں۔غصے میں زبان کو بے لگام نہ چھوڑیں۔ شرعی احکام کو مذاق نہ بنائیں۔ دینی شعائر پر طنز نہ کریں۔ سوشل میڈیا پر ہر وائرل بات شیئر نہ کریں۔ اور اگر کبھی کوئی مشتبہ یا خطرناک جملہ زبان سے نکل جائے تو اسے معمولی نہ سمجھیں؛ فوراً کسی مستند اہل علم سے رجوع کریں۔
(اٹھارہ ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے