سنو سنو!!
ہوا کی پیمائش سے اعمال کے وزن تک
(ناصرالدین مظاہری)
انسان نے اس ہوا کو بھی ناپ لیا ہے جسے وہ دیکھ نہیں سکتا! ہوا چلتی ہے، ہمیں چھوتی ہے، ہمارے چہروں سے ٹکراتی ہے، درختوں کے پتے ہلاتی ہے، مگر دکھائی نہیں دیتی۔ ایک زمانہ تھا کہ انسان کے لیے ہوا بس ہوا تھی؛ آج اس کی رفتار بھی معلوم ہے، دباؤ بھی معلوم ہے، نمی بھی معلوم ہے اور مختلف حالات میں اس کی مقدار اور وزن تک معلوم کیا جاسکتا ہے بلکہ ہوا ہی نہیں، انسان بہت سی غیر محسوس چیزوں کو بھی پیمائش کے دائرے میں لے آیا ہے چنانچہ روشنی کی شدت ناپی جارہی ہے، آواز کی بلندی ناپی جارہی ہے، حرارت کا معمولی فرق ناپا جارہا ہے، بارش کی مقدار ملی میٹر میں بتائی جارہی ہے، فضائی آلودگی کے ذرات گنے جارہے ہیں، سمندر کی گہرائی ناپی جارہی ہے، بادلوں کی حرکت اور بارش کے امکانات اعداد و شمار میں بیان کیے جارہے ہیں یعنی جس چیز کو آنکھ نہیں دیکھتی، انسان اس کی پیمائش کررہا ہے؛ اور جس چیز کو ہاتھ نہیں پکڑ سکتا، انسان اس کی مقدار معلوم کررہا ہے اب تھوڑی دیر کے لئے اپنے موبائل اور کمپیوٹر کی دنیا میں آئیے۔
یہاں بھی ایک عجیب انقلاب برپا ہے۔
ایک KB یعنی کلو بائٹ، پھر MB یعنی میگا بائٹ، پھر GB یعنی گیگا بائٹ، پھر TB یعنی ٹیرا بائٹ!
کل تک چند صفحات محفوظ کرنا بھی ایک کام تھا، آج ایک چھوٹے سے میموری کارڈ میں ہزاروں کتابیں، لاکھوں تصاویر، گھنٹوں کی ویڈیوز اور بے شمار معلومات محفوظ ہوجاتی ہیں۔
ایک چھوٹی سی چپ!
وزن اتنا کم کہ ہاتھ میں رکھ کر محسوس بھی نہ ہو، مگر اس کے اندر معلومات کا ایک پورا جہان آباد ہے، انسان نے معلومات کو بھی مقدار دے دی۔
اتنا ڈیٹا KB۔
اس سے زیادہ MB۔
اس سے کہیں زیادہ GB۔
اور پھر اس سے بھی آگے TB۔
یعنی معلومات بھی شمار ہورہی ہیں، محفوظ بھی ہورہی ہیں اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ سامنے بھی لائی جارہی ہیں۔
اب ذرا چودہ سو سال پیچھے چلیے۔
اس وقت نہ کمپیوٹر تھا، نہ موبائل، نہ میموری کارڈ، نہ GB تھا نہ TB۔
لیکن قرآن کریم نے انسان کو بتادیا تھا کہ تمہاری زندگی کا ایک ایک عمل محفوظ ہورہا ہے۔
وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا۔
"اور اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا، پھر تم مجرموں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں ہوگا اس سے خوف زدہ ہوں گے اور کہیں گے: ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑتی ہے نہ بڑی، سب کو شمار کیے ہوئے ہے۔"
آج ہم GB اور TB میں ڈیٹا محفوظ دیکھ کر حیران نہیں ہوتے، کیونکہ یہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ لیکن قرآن نے تو اس سے کہیں پہلے بتادیا تھا کہ انسان کے اعمال کا کوئی عمل اللہ کے علم اور فرشتوں کی کتابت سے باہر نہیں۔
مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ۔
"وہ کوئی بات زبان سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگران تیار رہتا ہے۔"
یعنی زبان سے نکلا ہوا لفظ بھی بے حساب نہیں۔ ہم بولتے ہیں اور بھول جاتے ہیں مگر اللہ کے یہاں وہ لکھا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بات ختم ہوگئی۔ مگر نامہ اعمال میں شاید وہیں سے بات شروع ہوجاتی ہے۔ اس لیے کہ زبان سے نکلنے والا لفظ بھی بے وزن نہیں۔ کبھی ایک لفظ دل جوڑ دیتا ہے اور کبھی ایک لفظ عمر بھر کا زخم دے دیتا ہے۔ کبھی ایک جملہ کسی مایوس انسان کو زندگی کی طرف لوٹا دیتا ہے اور کبھی ایک جملہ کسی کے دل میں ایسی چبھن پیدا کردیتا ہے جو برسوں نہیں نکلتی۔
قرآن کریم تو میزان کے بارے میں بھی صاف اعلان کرتا ہے:
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا۔
"اور ہم قیامت کے دن انصاف کے ترازو قائم کریں گے، پھر کسی جان پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا۔"
یہاں ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے:
اعمال تولے کیسے جائیں گے؟
نیکی کا وزن کیا ہوگا؟
برائی کا وزن کیا ہوگا؟
ایک نماز، ایک صدقہ، ایک مسکراہٹ، ایک آنسو، ایک خدمت، ایک گناہ، ایک غیبت، ایک ظلم، ایک بدنگاہی، ایک جھوٹ یہ سب ترازو میں کیسے آئیں گے؟
ہمیں اس کی کیفیت معلوم نہیں۔
اور نہ معلوم ہونا کوئی اعتراض نہیں کیونکہ آخرت غیب ہے اور غیب کی حقیقتوں کو دنیا کے آلات سے ناپنا ممکن نہیں۔ لیکن آج کی دنیا نے ہماری سمجھ کے ایک دروازے کو ضرور کھول دیا ہے۔
ہم نے دیکھ لیا کہ نظر نہ آنے والی چیز بھی قابل پیمائش ہوسکتی ہے۔
ہم نے دیکھ لیا کہ بہت معمولی چیز میں بہت بڑا ذخیرہ محفوظ ہوسکتا ہے۔
ہم نے دیکھ لیا کہ انسان کے اعمال اور حرکات کے نقوش بھی آلات کے ذریعے محفوظ کیے جاسکتے ہیں۔
تو پھر اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے نظام کے بارے میں ہماری حیرت کی بنیاد کیا ہے؟
قرآن کہتا ہے:
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۔ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ۔
"پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی اسے دیکھ لے گا۔"
آج انسان ایسی ٹیکنالوجی تک پہنچ گیا ہے جہاں نہایت معمولی مقداروں کی پیمائش ممکن ہے، مگر قرآن ہمیں بہت پہلے یہ سبق دے چکا ہے کہ اللہ کے یہاں کوئی نیکی یا برائی "بہت چھوٹی" کہہ کر نظر انداز نہیں کی جائے گی۔
اور میزان کا معاملہ بھی معمولی نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ ۔ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ ۔ وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ ۔ فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ۔
"پس جس کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا، اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے اس کا ٹھکانا ہاویہ ہوگا۔"
دنیا میں ہم اپنے جسم کا وزن کم یا زیادہ ہونے پر فکر مند ہوتے ہیں۔
وزن بڑھ جائے تو ترازو سے دشمنی شروع ہوجاتی ہے۔
وزن کم ہوجائے تو خوشی ہوتی ہے۔
غذا تبدیل کی جاتی ہے۔ ورزش شروع ہوتی ہے لیکن کبھی ہم نے یہ بھی سوچا کہ اعمال کا وزن کتنا ہے؟
دنیا کے ترازو پر وزن چند کلو کم یا زیادہ ہوجائے تو زندگی ختم نہیں ہوجاتی۔
مگر آخرت ، وہاں معاملہ چند کلو کا نہیں، نجات اور ہلاکت کا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میزان کے وزن کی اہمیت کو سمجھانے کے لیے فرمایا:
" كلمتان خفيفتان على اللسان، ثقيلتان في الميزان، حبيبتان إلى الرحمن"
"دو کلمے زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری اور رحمان کو محبوب ہیں۔"
وہ دو کلمے ہیں:
سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم۔
یہاں معلوم ہوا کہ اعمال کا معاملہ صرف ظاہری حجم اور مقدار کا نہیں، اللہ کے یہاں ان کی قدر و قیمت بھی ہے اسی لیے کسی نیکی کو معمولی نہ سمجھیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لا تحقرن من المعروف شيئا"
"کسی نیکی کو ہرگز حقیر نہ سمجھو۔"
کیونکہ ذرہ برابر نیکی اور ذرہ برابر برائی بھی وہاں سامنے آسکتی ہے۔
آج ہم اپنی زندگی کا ڈیٹا KB، MB، GB اور TB میں گن رہے ہیں ہمیں معلوم ہے کہ موبائل میں کتنی اسٹوریج باقی ہے مگر ہم پریشان ہوجاتے ہیں جب میموری فل کا پیغام نظر آتا ہے،ہم فوراً غیر ضروری تصاویر، ویڈیوز اور فائلیں حذف کرنے لگتے ہیں۔
کاش! ہم کبھی اپنے نامہ اعمال کے بارے میں بھی سوچیں کہ وہاں کیا کچھ جمع ہورہا ہے؟ کون سی فائلیں محفوظ ہورہی ہیں؟ کون سے الفاظ ریکارڈ ہورہے ہیں؟ کون سی نگاہیں درج ہورہی ہیں؟ کون سی نیکیاں جمع ہورہی ہیں؟ کون سے گناہ پلڑے کو بھاری کررہے ہیں؟
جس طرح میموری کارڈ کے اندر کا ڈاٹا ڈیلیٹ کیا جاسکتا ہے بالکل اسی طرح آج ہمیں اپنے گناہ کا احساس ہوجائے، ندامت ہوجائے، اللہ سے معافی مانگ لی جائے، حقوق العباد ادا کردیے جائیں اور زندگی کا رخ بدل دیا جائے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف فرمادے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو توبہ و استغفار کرنے والے لوگ بہت پسند ہیں۔
قیامت کے میزان کا تصور صرف خوف پیدا کرنے کے لیے نہیں، اصلاح کی دعوت دینے کے لیے بھی ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہاں ظلم نہیں ہوگا نہ کسی کی نیکی چھینی جائے گی، نہ کسی کی برائی بڑھائی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا۔
"کسی جان پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا۔"
آج دنیا میں ناپ تول کے پیمانے انسان بناتا ہے، کبھی غلط بھی ہوجاتے ہیں ، ڈیجیٹل ریکارڈ انسان بناتا ہے، کبھی ضائع بھی ہوجاتا ہے۔
آج انسان حساب کرتا ہے، کبھی بھول بھی جاتا ہے مگر آخرت کا حساب اس رب کے پاس ہوگا جو نہ بھولتا ہے، نہ اس سے کچھ پوشیدہ ہے لَا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنْسَى میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔
دنیا میں ہم موبائل اور کمپیوٹر کی اسٹوریج دیکھتے ہیں کہ کتنی بھری اور کتنی خالی ہے۔
کاش ہم کبھی تنہائی میں بیٹھ کر اپنے دل کی اسٹوریج بھی دیکھیں!
کتنا ذکر ہے؟ کتنی غفلت ہے؟ کتنی محبت ہے؟ کتنا حسد ہے؟ کتنی نیکی ہے؟ کتنا گناہ ہے؟ کتنا اخلاص ہے؟ کتنی نمائش ہے؟ اور پھر اپنے آپ سے کہیں کہ
ہوا کی پیمائش انسان نے سیکھ لی ہے ، روشنی، آواز اور موسم کی مقدار معلوم کرلی ہے۔ کیونکہ دنیا میں ڈیٹا ختم ہونے سے پہلے "اسٹوریج فل" کا پیغام آجاتا ہے؛
اور آخرت میں میزان قائم ہونے کے بعد پتا چلے گا کہ ہم نے زندگی بھر کیا کمایا؟
(بیس ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے