65a854e0fbfe1600199c5c82

اذان : بھونکتے کتے.بھاگتے شیاطین



 سنو سنو!!


اذان : بھونکتے کتے.بھاگتے شیاطین


(ناصرالدین مظاہری)


ماحول کا اثر تو پڑتا ہی ہے۔ مظاہر علوم وقف سہارنپور کے بالکل قریب چلکانہ روڈ پر ایک مندر ہے۔ عرصۂ دراز پہلے کی بات ہے، ایک دن مندر کے مائک سے اعلان ہو رہا تھا:


"بھائیو! آج مغرب کے بعد مندر میں کیرتن ہوگا، سبھی لوگ شرکت کریں۔"


مجھے خوب یاد ہے کہ اُس زمانے میں کفار و مشرکین بھی اذان اور مسجد کے احترام کا لحاظ رکھتے تھے۔ بینڈ باجے مسجد کے سامنے آتے تو بند کر دیے جاتے، اذان کی آواز بلند ہوتی تو مندروں کے مائک خاموش کر دیے جاتے۔ مگر پھر رفتہ رفتہ حالات بدلتے گئے۔ مسلمانوں ہی میں کچھ ایسے" کفار نما افراد" پیدا ہوگئے جنہوں نے اذان کی عظمت اور مسجد کے وقار کو روندنا شروع کردیا۔ شادی بیاہ اور دوسری تقریبات میں خود مسلمانوں نے اتنے بڑے بڑے لاؤڈ اسپیکر لگا کر مسجدوں کے آس پاس شور برپا کرنا شروع کردیا کہ اذان کی آواز بھی اس شور میں دبنے لگی۔ جب اپنے ہی لوگ اذان اور مسجد کے تقدس کا لحاظ نہ کریں تو دوسروں سے کیا توقع رکھی جائے؟


اذان کا اپنا ایک اثر ہوتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ لوگ اذان کی آواز سے اپنے نظام الاوقات مرتب کرتے تھے؛ فلاں اذان ہوگئی تو فلاں کام کا وقت، فلاں اذان ہوگئی تو فلاں معمول کا وقت۔ اذان صرف گھڑی نہیں تھی، گھڑی کی محتاج بھی نہیں تھی؛ خود ایک گھڑی تھی۔ مگر رفتہ رفتہ انحطاط و تنزل کا ایسا دور آیا کہ ہم نے اذان کو بھی محض ایک معمولی آواز سمجھ لیا، حالاں کہ اذان کی حقیقت اور تاثیر اس سے کہیں بلند ہے۔


اذان صرف نماز کے وقت کا اعلان نہیں، یہ توحید کا اعلان ہے، رسالت کی گواہی ہے، ایمان کی صدا ہے اور باطل کے ایوانوں میں گونجنے والی وہ آواز ہے جو دن میں پانچ مرتبہ مسلمانوں کو یاد دلاتی ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔


قرآن کریم نے ان لوگوں کی کیفیت بھی بیان فرمائی ہے جنہیں توحید کی آواز گوارا نہیں تھی:


وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ۔


"اور جب صرف اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کے دل بیزار ہونے لگتے ہیں۔" (الزمر: 45)


اور مشرکین کا ایک اور حال قرآن نے یوں بیان کیا:


إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ

"ان کا حال یہ تھا کہ جب ان سے کہا جاتا: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تو وہ تکبر کرتے تھے۔"

(الصافات: 35)


اذان میں بار بار اللہ اکبر ہے، پھر أشهد أن لا إله إلا الله ہے، پھر أشهد أن محمداً رسول الله ہے۔ گویا دن رات بار بار توحید و رسالت کی شہادت دی جارہی ہے۔


اسی لیے اذان صرف انسانوں ہی کو متوجہ نہیں کرتی بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ۔

"جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اور اس حالت میں ضرط کرتا ہے، یہاں تک کہ اذان کی آواز نہ سن سکے۔"


یعنی اذان ہوئی نہیں کہ شیطان نے فوراً پادتے ہوئے دوڑ لگا دی!


کبھی کبھی آپ نے دیکھا ہوگا کہ اذان شروع ہوتے ہی محلے کے کتے بھی یکایک بھونکنے، رونے یا چلانے لگتے ہیں۔ آدمی سوچتا ہے کہ آخر ماجرا کیا ہے؟


فتاویٰ محمودیہ میں ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے کہ مدرسے کے سامنے ایک کتا اذان سن کر ہمیشہ روتا اور چلاتا تھا۔ جواب میں فرمایا گیا:


"اذان سن کر شیطان بھاگتا ہے، بعض دفعہ بعض جانوروں کو بھی وہ نظر آتا ہے، اس سے گھبرا کر روتے اور آواز کرتے ہیں۔"

(فتاویٰ محمودیہ، ج 5، ص 443، ادارۃ الفاروق کراچی)


تصور کریں کہ اچانک اذان شروع ہوگئی ، شیطان نے اپنی ذریت کو ہڑبڑاہٹ میں بھاگنے کا حکم دیا، شیاطین کو بھاگتے دیکھ کر کتے بھونکنے یا رونے لگے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر کتا ہر اذان پر شیطان کو دیکھ کر ہی بھونکتا ہے؛ کتے کی سماعت بہت تیز ہے، آوازوں کے لیے ان کا ردعمل مختلف ہوسکتا ہے اور بھونکنے کی دوسری طبعی وجوہ بھی ہوسکتی ہیں۔لیکن فتاویٰ محمودیہ میں مذکور اس واقعے نے اس معمولی سے منظر کو ایک عجیب معنوی رنگ ضرور دے دیا ہے۔


ہم تو اذان میں توحید کی آواز سنتے ہیں، فرشتے اس کے گواہ ہیں، اہل ایمان کے دل اسے سن کر مسجد کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اور حدیث بتاتی ہے کہ شیطان اس آواز سے بھاگتا ہے اور پھر محلے کے کتے بھی شیطان کے ہم آواز ہوگئے، چھوٹے بڑے بڑے کتے بھونکنے لگتے ہیں، شور مچانے لگتے ہیں، چیخ و پکار سے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں، ان کی چلے تو یہ مؤذن کو ہی کاٹ کھائیں لیکن اسلام تو اسلام ہے اس کی فطرت میں قدرت نے ایسی لچک رکھی ہے کہ جب جب جہاں جہاں اسے جھکایا گیا مٹایا گیا اسلام پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ ابھرا۔


بہرحال اذان کی آواز کو محض شور سمجھنے والے شاید اس کے معنی نہیں سمجھتے۔

یہ آواز کسی ایک مسجد، ایک محلے یا ایک مؤذن کی آواز نہیں۔

یہ اللہ اکبر کی آواز ہے۔

یہ لا إله إلا الله کی آواز ہے۔

یہ محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی ہے۔

اور یہ دن میں پانچ مرتبہ بلند ہونے والی وہ صدائے توحید ہے جسے ایک مسلمان کے لیے سننا ایمان کی تازگی ہے، شیطان کے لیے ناگواری ہے، اور باطل کے لیے یقیناً ایک مستقل یاد دہانی ہے۔


(اکیس ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے