سنو سنو!!
داماد ہو تو ایسا
(ناصرالدین مظاہری)
ازدواجی زندگی پھولوں کی سیج نہیں، کانٹوں کی راہ بھی ہے؛ یہاں محبت کے ساتھ مزاج کا اختلاف بھی ہے، چاہت کے ساتھ طبیعت کا تفاوت بھی ہے، کبھی مسکراہٹیں ہیں تو کبھی خاموشیاں، کبھی قربت ہے تو کبھی ناراضیاں۔ مگر کامیاب گھر وہ نہیں جس میں کبھی اختلاف نہ ہو، کامیاب گھر وہ ہے جہاں اختلاف، محبت اور تعلق کو شکست نہ دے۔
ذرا اس گھر کی طرف آئیے جہاں ایک طرف خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سسر تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ داماد تھے اور حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا بیوی تھیں۔
یہ روایت بطور حکایت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بتا سکتے تھے، حضرت علی یا حضرت فاطمہ ہی روایت کر سکتے تھے، مگر حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں موجود نہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:
أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟
’’تمہارے چچا زاد کہاں ہیں؟‘‘
فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:
كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، فَغَاضَبَنِي، فَخَرَجَ، فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي۔
’’میرے اور ان کے درمیان کچھ بات ہوگئی تھی، وہ مجھ سے ناراض ہوکر نکل گئے اور میرے پاس قیلولہ نہیں کیا۔‘‘
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ذہین ترین خاتون تھیں، وہ بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرسکتی تھیں، لیکن آغوش نبوت کی پروردہ، کاشانۂ نبوی کی تربیت یافتہ اور دربار رسالت کی تربیت یافتہ تھیں۔ نپے تلے الفاظ کا انتخاب کیا اور کہنے لگیں:
’’میری ان سے کچھ ان بن ہوگئی تھی!‘‘
نہ الزام، نہ شکایتوں کی فہرست، نہ شوہر کے عیوب کا تذکرہ، نہ غصے میں کہے ہوئے الفاظ کی بازگشت؛ بس اتنا کہ کچھ بات ہوگئی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو داناؤں کے دانا تھے، نہ مزید تفصیل پوچھی کہ اگر تفصیل بتانی ہوتی تو صاحب زادی خود بتادیتیں، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھود کرید کی، بس اتنا فرمایا:
انْظُرْ أَيْنَ هُوَ؟
’’دیکھو، وہ کہاں ہیں؟‘‘
معلوم ہوا کہ علی رضی اللہ عنہ مسجد میں لیٹے ہوئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ چادر ایک طرف سے اتر گئی ہے اور جسم مبارک پر مٹی لگی ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک سے مٹی صاف کرتے جاتے اور محبت سے فرماتے جاتے:
قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ۔
’’اٹھو، اے ابو تراب! اٹھو، اے ابو تراب!‘‘
یہ واقعہ صحیحین، یعنی بخاری و مسلم دونوں میں ہے۔
یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، ازدواجی زندگی کا ایک آئینہ ہے۔
دامادو! کبھی بیوی سے اختلاف ہوجائے تو مردانگی یہ نہیں کہ آواز بلند کردی جائے، دروازہ پٹخ دیا جائے اور بیوی کو اس کے میکے والوں کے سامنے رسوا کیا جائے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے تو گھر سے نکل گئے، مگر معاملہ فساد نہیں بنا۔ غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے کچھ دیر کا فاصلہ اختیار کیا، رشتہ ختم کرنے کے لیے نہیں۔ گئے بھی تو کہاں؟ جہاں کا ایک ایک لمحہ خیر و برکت اور ثواب کا ہے۔
دلہنو! شوہر سے کوئی بات ہوجائے تو ہر بات ماں، بہن، بھائی، سہیلی اور پڑوس تک پہنچانا دانش مندی نہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد سے بھی شوہر کی شکایتوں کا دفتر نہیں کھولا؛ صرف اتنا کہا: ’’کچھ بات ہوگئی تھی۔‘‘ کچھ باتوں کو کچھ ہی رہنے دیجیے، انہیں ’’بڑی بات‘‘ بناکر گھر کی بنیادیں نہ ہلائیے۔
سسر صاحبان! بیٹی کی آنکھ میں آنسو دیکھ کر فوراً داماد کو مجرم نہ بنا دیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی کی بات سنی، مگر داماد کے خلاف فیصلہ سنانے کے بجائے پہلے اسے تلاش کیا۔
اصلاح مطلوب ہو تو تحقیق سے پہلے محبت، ملامت سے پہلے حکمت ضروری ہے۔
ساسو! بہو اور بیٹے کے درمیان کبھی کچھ ہوجائے تو ہر اختلاف میں فریق بن جانا گھر داری نہیں۔ ماں کا کام بیٹے کے غصے کو ایندھن دینا نہیں، بلکہ بجھتی ہوئی آگ پر پانی ڈالنا ہے۔ بعض اوقات گھر بچانے کے لیے کچھ باتیں سن کر بھی ان سنی کرنا پڑتی ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر، نوجوان میاں بیوی! یاد رکھیے، دو انسان ایک چھت کے نیچے رہیں اور کبھی اختلاف نہ ہو، یہ شاید ممکن نہ ہو؛ لیکن اختلاف کو انا، ضد، انتقام، طعنہ، تشہیر اور رشتہ داروں کی عدالت تک پہنچانا آپ کے اختیار میں ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے درمیان بھی کچھ بات ہوگئی تھی؛ مگر وہ ’’کچھ بات‘‘ محبت سے بڑی نہ ہوسکی۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس ناراضی کو لمبی تقریر، سخت سرزنش یا فریقین کی عدالت بناکر نہیں سلجھایا؛ ایک محبت بھرا لقب کافی سمجھا:
’’اٹھو، اے ابو تراب!‘‘
اور حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ خوبصورت، منفرد اور نیا نام پاکر پھولے نہیں سمائے۔
آج بھی گھروں کے بہت سے آپسی جھگڑوں کو کسی منصف کے منصفانہ فیصلوں کی ضرورت نہیں، بس زیادہ سے زیادہ ایک نرم لفظ، ایک قدم پیچھے، ایک قدم آگے اور تھوڑی سی خاموشی کی ضرورت ہے۔
میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ میاں بیوی کے نجی جھگڑوں میں ججی کے فرائض انجام دینے کی کوشش مت کیجیے، کبھی اندھا بننے کا ناٹک کیجیے کہ گویا آپ نے کچھ دیکھا ہی نہیں۔ کبھی بہرہ بننے کا ناٹک کیجیے کہ آپ نے کچھ سنا ہی نہیں، اور کبھی جھوٹ موٹ گونگا بن جائیے کہ آپ کو ان چیزوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
گھر اختلاف سے نہیں ٹوٹتے؛
گھر اس وقت ٹوٹتے ہیں جب اختلاف، محبت سے بڑا ہوجاتا ہے۔ گھروں کی رونق اس وقت سبوتاژ ہوجاتی ہے جب دوسرے آکودتے ہیں، گھر اس وقت بے سکون ہوجاتے ہیں جب کوئی ایک اپنی ناک اور انا کا مسئلہ بنالیتا ہے۔
(انتیس ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے