سنو سنو!!
علم سے محرومی
(ناصرالدین مظاہری)
استاد اور شاگرد کا رشتہ بھی عجیب ہے! کبھی ایک نظر زندگی سنوار دیتی ہے اور کبھی ایک غلط فہمی علم کے راستے میں دیوار بن جاتی ہے۔ کبھی ایک جملہ حوصلے کے بند دروازے کھول دیتا ہے اور کبھی دل میں بیٹھا ہوا ایک خیال برسوں کی محنت پر پانی پھیرنے لگتا ہے۔
تعلیم المتعلمین میں حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد باندوی نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ مظاہر علوم سہارنپور میں سالانہ تعطیلات ہوئیں تو طلبہ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہونے لگے۔ ایک طالب علم بھی رخت سفر باندھنے لگا۔ جاتے وقت اس نے اپنے تمام اساتذہ سے ملاقات کی، لیکن ایک استاذ موجود نہ تھے، اس لیے ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔
وقت گزرا، طالب علم فارغ التحصیل ہوا، تدریس سے وابستہ ہوا اور اسے پڑھانے کے لیے ایک جگہ مل گئی۔ علمی استعداد اچھی، کتابی لیاقت قابل رشک، لیکن اتفاق دیکھیے کہ پڑھانے کے لیے جو ابتدائی کتابیں اس کے سپرد ہوئیں، ان میں وہ کتابیں بھی تھیں جو اسی استاذ سے پڑھی تھیں جن سے رخصت ہوتے وقت ملاقات نہ ہوسکی تھی۔
اب ہوا یہ کہ صاحبِ درس نے کتاب کھولی، پڑھانا شروع کیا، لیکن بسم اللہ سے آگے بڑھنا دشوار ہوگیا۔ نہ عبارت سمجھ میں آئے، نہ سبق کھلے، نہ زبان ساتھ دے! وہی کتاب جسے کبھی پڑھ چکے تھے، آج پڑھانے میں رکاوٹ بن گئی۔ حیران تھے کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے؟ علم کہاں گیا؟ استعداد کو کیا ہوا؟ برسوں کی محنت اچانک کس پردے میں چھپ گئی؟
بالآخر اپنے استاذ محترم کو خط لکھا اور ساری کیفیت بیان کردی۔ ساتھ یہ وضاحت بھی کردی کہ مدرسے سے روانگی کے وقت آپ سے ملاقات اس لیے نہیں ہوسکی تھی کہ اس روز آپ تشریف نہیں لائے تھے اور مجھے سفر پر نکلنا تھا۔
استاذ محترم نے جواب لکھا کہ تمہارے جانے کے بعد جب معلوم ہوا کہ تم روانہ ہوچکے ہو تو مجھے افسوس ہوا۔ خیال آیا کہ طالب علم اعلیٰ درجات کے اساتذہ سے تو مل کر گیا، لیکن مجھ سے ملاقات کی ضرورت محسوس نہیں کی؛ شاید اس لیے کہ میں ابتدائی درجات کا استاذ ہوں!
لیکن اب جب تم نے حقیقت واضح کردی ہے تو میرے دل سے یہ خیال نکل گیا ہے۔ اب بے تکلف مدرسے جاؤ، بسم اللہ کرو اور پڑھانا شروع کردو، ان شاء اللہ کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔
اور پھر ایسا ہی ہوا! رکا ہوا سبق چل پڑا، الجھی ہوئی گرہیں کھل گئیں اور جو زبان بند ہوگئی تھی، وہ رواں ہوگئی۔
یہ واقعہ محض ایک استاد اور شاگرد کی ملاقات کا قصہ نہیں، یہ دلوں کے احوال اور ان کے اثرات کی ایک عجیب داستان ہے۔
ہم دوسروں کے بارے میں کتنی آسانی سے رائے قائم کرلیتے ہیں! کسی نے سلام میں پہل نہیں کی تو متکبر سمجھ لیا، کسی نے ملاقات نہیں کی تو بے مروت قرار دے دیا، کسی نے حال نہیں پوچھا تو بے تعلقی کا فتویٰ لگا دیا۔ یہ نہیں سوچا کہ ممکن ہے کوئی مجبوری ہو، کوئی عذر ہو، کوئی ایسی بات ہو جس سے ہم واقف ہی نہ ہوں۔
اور کبھی تو ہماری رائے محض رائے نہیں رہتی، دل میں بیٹھ کر بدگمانی بن جاتی ہے۔ پھر وہ بدگمانی ہمارے رویے کو بدلتی ہے اور ہمارا رویہ دوسروں کے لیے آزمائش بن جاتا ہے۔
ایک استاذ کے دل میں پیدا ہونے والا منفی خیال ان کے شاگرد کے علمی سفر میں رکاوٹ بن گیا۔ جب وہ خیال دور ہوا تو رکاوٹ بھی دور ہوگئی۔
دل صاف ہوں تو راستے کھلتے ہیں، دلوں میں گرہیں پڑجائیں تو کبھی کھلی کتاب بھی بند محسوس ہونے لگتی ہے۔
کیا معلوم جسے ہم اپنی بے قدری سمجھ رہے ہوں، وہ محض ایک اتفاق ہو؛ اور کیا معلوم ہماری ایک بدگمانی کسی دوسرے کے لیے کتنی بڑی آزمائش بن جائے!
(پندرہ جمادی الاولی چودہ سو اڑتالیس ہجری)

0 تبصرے