65a854e0fbfe1600199c5c82

عمرہ عبادت ہے، ہوٹل کی نمائش نہیں



 آج کل ایک عجیب رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جب کوئی عمرہ کر کے واپس آتا ہے تو اس کی گفتگو کا مرکز عبادت نہیں بلکہ ہوٹل بن جاتا ہے۔ وہ بڑے فخر سے بتاتا ہے کہ ہمارا ہوٹل کتنا قریب تھا، کمرے سے حرم نظر آتا تھا، لفٹ کتنی تیز تھی، ناشتے میں کیا کیا ملتا تھا، اور کمرہ کتنا مہنگا تھا۔ گویا اصل کامیابی یہ تھی کہ ہوٹل کتنا “لگژری” تھا، نہ کہ عمرہ کتنا خلوص کے ساتھ ادا کیا گیا


 اگر کوئی سننے والا ہو تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ عمرہ کرنے نہیں بلکہ ہوٹل کا ریویو دینے گیا تھا۔ “ہم تو بس نیچے اترے اور حرم سامنے تھا”، “ہم نے اتنی مہنگی بکنگ کروائی تھی”، “ہمیں ویو والا کمرہ ملا تھا”—یہ سب باتیں بڑے شوق سے سنائی جاتی ہیں۔ مگر افسوس! یہ کوئی نہیں بتاتا کہ دل میں کتنی تبدیلی آئی؟


ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حرم کی کارگزاری سنائی جاتی۔ یہ بتایا جاتا کہ وہاں جا کر دل کیسے نرم ہوا، اللہ سے تعلق کیسے مضبوط ہوا . یہ بھی بتایا جاتا کہ دنیا کے مختلف ملکوں سے آئے ہوئے مسلمانوں سے ملاقات ہوئی، ان سے دین کی بات ہوئی، ایمان کی روشنی کیسے پھیلی۔ وہ موقع جب پوری امت ایک جگہ جمع ہوتی ہے، وہ تو دعوت، اخوت اور ایمان کو بڑھانے کا بہترین وقت ہوتا ہے۔


پہلے لوگ جب واپس آتے تھے تو ان کی باتوں میں روحانیت ہوتی تھی۔ وہ حرم کی کیفیت سناتے تھے، اللہ کے گھر کی عظمت بیان کرتے تھے، ایمان تازہ کرنے کی باتیں کرتے تھے۔ مگر آج کل افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عمرہ عبادت سے زیادہ ایک “اسٹیٹس” بن گیا ہے۔ کچھ لوگ اسے فیشن بنا چکے ہیں—جیسے یہ بتانا ہو کہ ہم کتنے خوشحال ہیں، ہم نے رمضان میں مہنگی ٹکٹ لی، ہم نے فلاں ہوٹل میں قیام کیا۔


یہ سب کچھ سن کر دل دکھتا ہے کہ کہیں ہم نے عبادت کی روح کو تو نہیں کھو دیا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اللہ کو راضی کرنے کے بجائے لوگوں کو متاثر کرنے نکل پڑے ہیں؟


عمرہ دکھاوے کے لیے نہیں، دل کو بدلنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہ اللہ سے دوستی کا سفر ہے، نہ کہ دنیا کو اپنی حیثیت دکھانے کا ذریعہ۔


✍️ از قلم: محسن موٹن

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے