65a854e0fbfe1600199c5c82

مہکتی کتابیں: البدایۃ والنہایۃ



 مہکتی کتابیں:


کتاب کا نام: البدایۃ والنہایۃ

مصنف: حافظ عماد الدین ابوالفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی الدمشقی (م 774ھ)

تحقیق: ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالمحسن ترکی

کل جلدیں: 21

ناشر: دار ہجر للطباعة والنشر والتوزيع والإعلان، قاہرہ

اشاعت: 1417ھ، 1997ء


بسم اللہ الرحمن الرحیم


البدایۃ! یہ صرف ایک لفظ نہیں، ایک پوری داستان کا پہلا باب ہے؛ آدم علیہ السلام سے شروع ہونے والی وہ داستان جس میں انسان، زمین، آسمان، نبوت، اقوام، سلطنتیں، فتوحات، فتنوں اور بدلتے ہوئے زمانوں کے نقوش یکجا ہوجاتے ہیں۔ اور اس داستان کے مصنف حافظ عماد الدین ابوالفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی الدمشقی ہیں، جنہیں علمی دنیا حافظ ابن کثیر کے نام سے جانتی ہے۔


701ھ میں پیدا ہونے والے ابن کثیر اپنے عہد کے ممتاز محدث، مفسر، فقیہ اور مورخ تھے۔ ان کی علمی شخصیت کا دائرہ صرف ایک فن تک محدود نہ تھا؛ قرآن کی تفسیر ہو، حدیث کی خدمت ہو، فقہ کا میدان ہو یا تاریخ کے پیچیدہ ابواب، ہر جگہ ان کا قلم اپنی ایک شناخت رکھتا ہے۔ البدایۃ والنہایۃ اسی ہمہ جہت علمی شخصیت کا وہ عظیم تاریخی کارنامہ ہے جس نے اسلامی تاریخ کے ایک وسیع حصے کو ایک مربوط سلسلے میں محفوظ کردیا۔


انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات، گزشتہ اقوام کے حالات اور انسانی تاریخ کے ابتدائی مراحل سے گزرتی ہوئی یہ تصنیف سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہے۔ یہاں عہدِ رسالت کی تفصیلات ہیں، مکی و مدنی زندگی کے واقعات ہیں، غزوات ہیں، دعوت و جہاد کی منزلیں ہیں، پھر خلفائے راشدین کا عہد، بنو امیہ اور بنو عباس کے ادوار، مختلف سیاسی واقعات، فتوحات، فتنوں اور علمی شخصیات کے احوال یکے بعد دیگرے سامنے آتے ہیں۔


لیکن ابن کثیر کی تاریخ نویسی کا امتیاز صرف واقعات کی کثرت نہیں ہے۔ وہ روایت کو محض اس لیے قبول نہیں کرتے کہ وہ کسی کتاب میں نقل ہوگئی ہے۔ تاریخی اخبار کے ساتھ اسناد اور مصادر کا معاملہ سامنے رکھتے ہیں، بعض روایات پر کلام کرتے ہیں، بعض کی صحت واضح کرتے ہیں اور بعض کے ضعف کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب کا مطالعہ قاری کو صرف ماضی سے واقف نہیں کرتا بلکہ اسے روایت اور تحقیق کے درمیان فرق سمجھنے کا سلیقہ بھی دیتا ہے۔


اس کتاب میں بادشاہ بھی ہیں اور درویش بھی، فاتح بھی ہیں اور مفتوح بھی، اہل علم بھی ہیں اور اہل اقتدار بھی۔ کسی عہد کی تصویر صرف اس کے حکمرانوں سے نہیں بنتی؛ ابن کثیر علماء، محدثین اور مشاہیر کی وفیات اور حالات بھی درج کرتے ہیں، اس لیے صفحات پلٹتے ہوئے ایک پورا معاشرہ اپنے مختلف طبقات اور رنگوں کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ یہی اس کتاب کی کشادگی ہے کہ یہ صرف یہ نہیں بتاتی کہ کون حکمران تھا، بلکہ یہ بھی دکھاتی ہے کہ کون عالم تھا، کون محدث تھا، کون پیدا ہوا اور کون رخصت ہوگیا۔


سال بہ سال آگے بڑھتی ہوئی تاریخ میں زمانہ خود چلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایک سال میں کوئی سلطنت مضبوط ہوتی ہے، دوسرے میں کوئی فتنہ اٹھتا ہے؛ کہیں لشکر روانہ ہوتے ہیں، کہیں شہر فتح ہوتے ہیں، کہیں اقتدار منتقل ہوتا ہے اور کہیں ایک عظیم علمی شخصیت دنیا سے رخصت ہوجاتی ہے۔ یوں تاریخ محض خشک واقعات کا دفتر نہیں رہتی بلکہ انسانی زندگی کی گردش بن جاتی ہے، اور قاری تاریخ پڑھنے سے آگے بڑھ کر تاریخ سے سبق لینے لگتا ہے۔


کتنی سلطنتیں تھیں جنہیں اپنے استحکام پر ناز تھا، مگر وقت نے انہیں ماضی کا عنوان بنادیا۔ کتنے نام تھے جن کے ساتھ اقتدار کی ہیبت جڑی ہوئی تھی، مگر آج وہ صرف چند سطروں میں محفوظ ہیں۔ کتنے لوگ تھے جو اپنے زمانے میں غیر معمولی معلوم ہوتے تھے، مگر زمانے کی گردش نے سب کو ایک ہی حقیقت کے سامنے لا کھڑا کیا: انسان فانی ہے اور زمانہ کسی کے لیے نہیں رکتا۔


کتاب کے آخری حصے میں تاریخ کا رخ مزید واضح طور پر آخرت کی طرف ہوجاتا ہے۔ قیامت کی علامات، موت کے بعد کی زندگی، بعث، حشر، حساب، میزان، صراط، جنت اور جہنم کے ابواب سامنے آتے ہیں۔ یوں دنیا کے واقعات سے شروع ہونے والا سفر اس حقیقت تک پہنچتا ہے جس کے سامنے دنیا کی تمام کامیابیاں، تمام شکستیں اور تمام اختلافات اپنی آخری حیثیت کھو دیتے ہیں۔ یہاں آکر عنوان اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔


آدم علیہ السلام سے شروع ہونے والی اس داستان میں ہر نسل نے اپنا ایک باب لکھا۔ کسی نے عدل چھوڑا، کسی نے ظلم اختیار کیا؛ کسی نے علم کو سینے سے لگایا، کسی نے جہالت کو اپنا مقدر بنایا؛ کسی نے دنیا کو مقصد سمجھا، کسی نے دنیا کو آخرت کی تیاری کا میدان جانا اور ہم؟ ہم بھی اسی داستان کا ایک مختصر باب بلکہ بین السطور مسطور ہیں۔ ہماری آمد بھی کسی تاریخ میں درج ہوگی، ہماری زندگی بھی کسی دن اختتام کو پہنچے گی، اور جو کچھ آج ہمارے گرد حقیقت محسوس ہوتا ہے، کل وہ بھی یاد، تذکرہ یا خاموشی بن سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں البدایۃ والنہایۃ محض ایک تاریخی کتاب نہیں رہتی بلکہ ہمارے اپنے سفر کا آئینہ بن جاتی ہے۔


ابن کثیر نے صدیوں کے انسانوں کو ہمارے سامنے لاکر گویا ایک سوال ہمارے سامنے رکھ دیا ہے: تم اس طویل انسانی سفر میں کہاں کھڑے ہو؟ تاریخ گزر ضرور گئی ہے، مگر تاریخ کا سبق نہیں گزرا؛ ہر گزرتا ہوا دن ہماری اپنی زندگی کی کتاب میں ایک نیا صفحہ شامل کررہا ہے۔


ابتدا سب کی ہوئی، راستے سب نے طے کیے، مگر انجام سے کوئی بچ نہ سکا۔ اسی لیے اس کتاب کا نام بھی دو لفظوں میں پوری انسانی داستان سمیٹ لیتا ہے: البدایۃ سے النہایۃ تک۔


البدایہ والنہایہ کی جلدوں کی تعداد مختلف طبعات میں مختلف ہے۔ مطبع السعادۃ، مصر کی معروف طباعت 14 جلدوں میں شائع ہوئی ہے، جبکہ بعض دیگر طبعات میں اس کی جلدوں کی تعداد 15 اور تحقیقِ عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی کے ایڈیشن میں 21 جلدیں ہے۔


مظاہرعلوم وقف سہارنپور کے مجھ پر ہزاروں احسانات و عنایات ہیں، انہی میں سے ایک احسان یہ بھی ہے کہ یہ عظیم و قدیم کتاب مجھے مرکزی لائبریری میں پڑھنے کو ملی۔ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اسے ہر حاسد اور ہر معاند کے شر سے محفوظ رکھے، اور اس کے ہر محسن، ہر ہمدرد اور ہر خیر خواہ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔


ناصرالدین مظاہری

مظاہرعلوم وقف سہارنپور


(انتیس ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے